بسم اللھ الرحمن الرحیمبسم اللھ الرحمن الرحیم ترانۂ دارالعلوم ہاٹہھزاری از قلم- محمد جنید بابونگری علم وھنر کا مرکزیہ درسگاہِ دیں ہے- مینارۂ تجلی، گھوارۂ یقیں ہے ممتاز ہے جھاں میں یہ گلستاں ہمارا - شاخوں میں اس چمن کی ہے آشیاں ہمارا سرچشمۂ ہدی یہ باغ جناں ہمارا - ملّت کا یہ سہارا، یہ پاسباں ہمارا قطرہ یہاں سمندر، شبنم یہاں ہے باراں - ہرگل یہاں چمن، ہر ذرّہ ہے ماہ تاباں ہر فرد انجمن ہے، ہر شخص یک ادارہ - ہرموج ایک دریا، سورج ہے ہر شرارہ شرماگئ یہاں وہ خورشید کی کِرن بھی - اس گلشِن یقین میں نادم ہے یا سمن بھی ذرّوں کے اس کے آگے مہتاب ہے پیشماں - مِرّیخ سے ہے بڑھ کرہرذرّہ اس کاتاباں تعمر ہے یہ ایسی فطرت ہے جس کا معمار - آوازاہل فطرت اٹھی یہاں سے سوبار بطحا کے رنگ ونکہت سے یہ چمن منوّر - اس کی فظا معطّر، اس کی ہَوا معنبر کوفہ کی فقہ کا یہ جلتا ہوادیاہے - فیض امام اعظم اس سے ہمیں ملاہے اس مجلس جنوں کی دلق اویس زینت - زھراکی چادر وبوذر کی گلیم برکت اس بزم پرسکوں کی زینت اذاں بلالی - فکر وشعوررازی،تلقین آں غزالی سوزوگدازرومی،عرفان شیخ جامی - اس بزم قاسمی کا ہیں امتیاز سامی اوکار شہ ولی اللہ کا یہ شمع پَرتَو - تجدید شیخ سرھندی کی یہاں سداضو امداد کی دعاۓنیم شبی یہاں ہے - محمود کی بکاۓنیمِ شبی یہاں ہے فقہ رشیدودرس شبّیرو شاہ انور - اس مرکز علوم وافکارکے ہیں محور عزمِ حسین احمد اس کےضمیر میں ہے - پاکیزہ جوش اسمٰعیلی خمیر میں ہے بےشک یہ تھانویہ کا نخلِ مرادوارماں - یہ مظہر علوم واسراراہل ایقاں حضرت حبیب نے جو پودا یہاں لگایا - سارےجہاں کواس نےاپنا ثمر کِھلایا یہ نقشۂضمیری، یہ خانۂفقیری - جھکتی ہے جس کے آگے وہ شاہی وہ امیری عبدالحمید کی یہ اِک یادگار تصویر - خواب جناب عبدالواحد کی سچّی تعبیر صوفی عزیز کا یہ سرگرم اِک مِشن ہے - عشق سعید کااِک دریاۓموجزن ہے یہ میکدہ ہے کیا یہ اِک نقش عبدوھّاب - سیکھے ہیں جن سے دنیانےبزم مےکےآداب انوار فیض سے ہے پرنورجام صدّیق - میناۓ فیض سے ہے بھر پور جام صدّیق یہ جوۓ فیض ابراھیم و افاض دیں ہے - سارا جھان جس سے شاداب بالیقیں ہے بہتارہا ہے یاں جو بحرِ علوم انور - احساں ہے وہ نذیر ویعقوب کا سراسر نفحات عبدقیّوم اس کامنار عظمت - حسنِ نظام حامداس کا نشان زینت احمد شفیع سے ہے اس کاوہ کرّوفرآج - سارے جہاں میں ان کے دم سے یہ نامورآج یہ زندہ یادگارِ انفاس بوالحسن ہے - نادر کی جدّ و جہد و تقوٰی کابانکپن ہے روشن ضمیری دم سے حافض کا جام مینا - اس جام سے برابربہتی رہی ہے صہبا نور محمدی کے انوار ہر طرف ہیں - فیض علی کے رخشاں آثار ہرطرف ہیں تم کو بتاؤں آخردَارالعلوم کیاہے - اک پیکر صداقت، اِک منزلِ وفا ہے اِک قلب درد منداوراک فکر پارسا ہے - مردانِ باخدا کی آنسو بھری دعا ہے یہ نور اورچمکے، یہ شجرہ اور پھیلے - ان اہل دردکی یہ آواز اور گونجے روشن رہے اَبد تک اسلاف کایہ کردار پورا ہو یاخدا یہ شوق جنید ناکار
Copyright © 2013-2014 ALL Right Reserved
Design & Development by WebHouse